محمد اشرف جبار، جو اشرف قریشی کے نام سے بھی معروف ہیں، 1965 میں کراچی میں ایک قریشی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کی جڑیں علی گڑھ سے وابستہ تھیں۔ ان کے والد ایک کامیاب اور مشہور پھل اور سبزی برآمد کرنے والے تاجر تھے۔ انہوں نے ابتدا میں اپنے والد کا ایکسپورٹ کاروبار سنبھالا اور کچھ سال تک اسے جاری رکھا، بعد میں مختصر عرصے کے لیے پی آئی اے سے وابستہ ہوگئے۔ ان کی کاروباری سمجھ بوجھ نے انہیں کامیابی کے راستے دکھائے اور انہوں نے زمین فراہم کرنے کے کاروبار میں کام شروع کیا۔ جلد ہی وہ مارکیٹ میں ایک معروف اور قابلِ اعتماد نام بن گئے۔ ان کی محنت اور ثابت قدمی نے ان کے کاروبار کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، اور بعد میں انہوں نے اپنی تنظیم کو ای کامرس، ڈیری، تعمیرات، رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ، فوڈ اینڈ بیوریج، اور ہاسپیٹیلٹی جیسے مختلف شعبوں تک وسعت دی۔ آج ان کی قائم کردہ تنظیم ایماندار کاروباری اصولوں اور اعلیٰ معیار کی خدمات کی وجہ سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور ہے۔ اسی دیانتداری، عوامی خدمت اور سماجی بھلائی کے جذبے سے متاثر ہو کر انہوں نے پبلک یونین پاکستان کی بنیاد رکھی—ایک انقلابی پلیٹ فارم جس کا مقصد عوام اور حکام کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے وہ عام شہریوں کو بااختیار بنانا، مقامی شہری مسائل کے حل کو آسان بنانا، اور پورے ملک میں شفافیت، رضاکارانہ خدمت اور خود انحصاری کی ثقافت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
اک شفاف، اسان او بااختیار پلیٹ فارم دئون، جتے ہر پاکستانی اپنے علاقے گا مسلن رپورٹ تھاریگے، مئی حل تھارونے گین چاکیگے، او اپنے الے دوالے چکو تھارونے کارنے مقامی رضاکارن ساتی مل بیش کار تھاریگے
اک شفاف، جوابدہ او متحد پاکستان، جتے مقامی برادرین تھئی اپنے محلن گا علاقن ٹھوک تھارونے مستقیماً اختیار بئی، او سبھی کارنے بنیادی حقوق گا شہری سہولیات یقینی بئی۔
اے دیزے گئِے جتے شکایتن پٹ چاکونوش بئی۔ ہن اپنے علاقے گا مسلن صحیح لوکیشن گا تصویرن ساتی رپورٹ تھیگے، او ریل ٹائم لو مئی کاروائی پیچھا تھیگے؟
اپنے محلن صفائی، توم بجونے مہم (شجرکاری) او ہنگامی مدد کارنے جوشیلے شہرین ساتی مل بیش تھیگے
اہم معلومات، ہنگامی رابطن، او لوکل گورنمنٹ نظام لا سمجھونے کارنے گائیڈن اک مرکزی مرکز۔
اک مصلیٰ (بہتر) پاکستان کارنے، ہر تفریق بغیر منوزو کٹھے تھارون۔
مسلن درج تھونے او مئی حل تھونے کاروائی لا کھلا، پدّرا او ایمانداری ساتی تھارون۔
خالی ہیتن تھونے بدل، زمینر اصل کار (عملی حل) تھونے طرف دھیان دیون۔
Giving ordinary citizens the tools to hold local authorities accountable.
اک مصلیٰ (بہتر) پاکستانو شروعات سیاستدانن ساتی نہ، بلکہ اسئی ساتی بئی۔ چاہے توس سڑک کھچی خراب بو لایٹھو رپورٹ تھون بئیے یا برادری نو لیڈر بنِت اگے الون بئیے، تئی پلیٹ فارم تیار بئی۔